زندگی خراب سی

میں چاہتا تھا نہ بربادی اپنی ۔۔؟؟لو کر لیا نا برباد ۔۔۔۔!!ہو گیا نہ خوش ۔۔!!!لگا دی نہ خود کے سپنوں کو آگ ۔۔!! ختم ہو گیا نہ جنوں۔۔!! ٹھکرا دیا نہ خود کو۔۔۔!!! نیلام کر لی نہ عزت۔۔!! تو ڈھنڈورہ کیوں پیٹوں۔۔!!کیوں بتاوں زمانے کو چیخ چیخ کر کے میں خود سے نفرت کرتا ہوں۔۔!!میں خود پہ ہنستا ہوں ۔۔!!میں اپنے آپ سے کوفت محسوس کرنے لگا ہوں۔۔!!مجھے اپنا وجود ڈستا ہے ۔۔!!مجھے خود سے گھن آتی ہے۔۔!!مجھے اپنی سوچوں کے دائرے سے نفرت ہے۔۔!!مجھے اپنی جاں سے دشمنی ہے۔۔!! بتا دوں کیا۔۔!! وہم ہے یہ کے ہم اہم ہیں۔۔!!بتلا دوں کیا کے بھولنے والے دو روز یاد رکھتے۔۔!! حقیقت کو نہیں مانے گا کوئی۔۔!! لوگ پاگل سمجھیں گے۔۔!!لوگ افسانہ سمجھیں گے۔۔!! کیوں کے اک روز وہ بھی اسی مقام پہ آ کھڑے ہوں گے۔۔!اور بھلا کوئی کسی مقام پہ رہ کر دیکھ سکتا ہے کہ دوسرا اس کی جگہ لے۔۔؟؟نہیں کبھی نہیں۔۔۔!!!روش بحال رکھنے دو ۔۔!!مجھے خود سے ملال رکھنے دو۔۔!! سجاد میر

Leave a comment